اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپوٹ کے مطابق 33 برسوں سے یمن پر مسلط آمر علی عبداللہ صالح ـ جو ایک ماہ قبل دارالحکومت صنعا میں نامعلوم حملہ آوروں کے مارٹر حملے میں زخمی ہوکر آل سعود کے اسپتالوں میں زیر علاج رہنے اور منظر عام سے غائب رہنے کے بعد ـ یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن اسکرین پر ظاہر ہوئے جبکہ بدن ٹوٹا پھوٹا تھا، چہرہ جلا ہوا تھا اور سرپر آل سعود طرز کا رومال بندھا ہوا تھا جو ایک نئی بات تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک صورت تھی دکھانے کے لئے ورنہ یہ علی عبداللہ صالح اپنی آمریت مزید جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے ہیں جن کے ہاتھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، آواز میں ضعف تھا اور چہرہ بدل گیا تھا۔
انھوں نے تقریر کی اور اپنے ساتھ حملے میں مارے جانیوالوں کو شہید قرار دیا اور ان کے خاندانوں کو تعزیت کہی۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مارٹر حملے میں زخمی نہیں ہوئے بلکہ صدارتی محل کی مسجد میں پہلے سے ایک وزنی ریموٹ کنٹرول یا پھر ٹائم بم رکھا گیا تھا جس کے پھٹنے سے 17 افراد مارے گئے اور آمر زخمی ہوگئے اور یوں آل سعود کو ایک نئے غدار آمر کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔
آج ان کی تقریر سعودی دارالحکومت ریاض کے فوجی اسپتال مین ریکارڈ ہوئی تھی۔
آٹھ مرتبہ پلاسٹک سرجری کے بعد نہایت نہیف و ضعیف اور جلے ہوئے زخمی علی عبداللہ صالح نے اپنی قوم کو ایک بار پھر دھمکیاں دیں۔
...........
/110

- یمن / صالح کا جلا ہوا چہرہ "پلاسٹک سرجری سے قبل" / با تصویر
دنیاکےانصاف پسندوں کامطالبہ: ہائی کمشنر ہیومین رائٹس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بحرین روانہ کرےCLICK